وہ علمائے اہلحدیث جنھیں اکابرینِ اہلحدیث میں شمار کیا جاتا ہے۔ جن کی خدمات کا ہر اہلحدیث معترف و قدردان ہے۔ وہ یزید کے حامی نہیں بلکہ سخت مخالف تھے۔ برملا طور پر اُسے فاسق و فاجر اور ظالم قرار دیتے تھے۔ ہم اِسی حقیقت سے پردہ     اٹھانا چاہتے ہیں      کہ

 اکابرینِ اہلحدیث یزید کے حامی نہیں سخت مخالف تھے۔ جس طرح آگ سے ٹھنڈک حاصل نہیں کی جا سکتی   ،   برف کے ذرات سے حرارت حاصل نہیں ہو سکتی ، گُلِ کاغذ سے خوشبو حاصل نہیں ہو سکتی   بالکل اِسی طرح اکابرینِ اہلحدیث کی تحریرات سے یزید کی طہارت و پارسائی ثابت نہیں کی جا سکتی۔

یاد رہے۔وکلائے یزید و محُبانِ شمر کی ہٹ دھرمی ، تعصب و بے باکی اس حد تک پہنچ چکی ہے  کہ اگر کسی عالمِ دین کا وہ حوالہ پیش کر دیا جائے جو یزید کی مخالفت میں ہو تو حُبِ یزید سے سر شار ہو کر جھُوم جھُوم کر اُس عالم کی پگڑی اُچھالنے لگتے ہیں۔ کبھی اُس کی عِلمیت کوستے ہیں ، کبھی اُس کے فہم و فراست پر طعن زن ہوتے ہوئے کہتے  ہیں کہ وہ  بھی کوئی عالم ہے ۔ وہ ایسا۔۔۔ وہ ویسا۔۔۔۔ لہذٰا ہم نے ضرورت محسوس کی کہ  جس   بھی  عالمِ دین کا حوالہ پیش کریں، حوالہ ذکر کرنے سے پہلے اُس عالمِ دین  کا مقام و مرتبہ بھی واضح کر دیں۔ تاکہ وکلائے یزید و محُبانِ شمر سادہ لوح افراد کو گمراہ نہ کر سکیں۔

  • ٭سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
  • سید نذیز حسین
  • دوسری بات یہاں لکھیں
  • تیسری بات یہاں لکھیں
پورے ساٹھ سال درسِ حدیث اور علومِ دینیہ کی تدریس کی بناء پر شیخ الکل فی الکل کا لقب پایا۔
( خدمات اہل حدیث نمبر مضمون ارشاد الحق اثری ص 178)
 محققین کاملین کی تعداد ایک ہزار اور باقی تلامذہ کی تعداد کئی ہزار تک پہنچتی ہے۔
( مقدمہ غایۃ المقصود از شمس الحق عظیم آبادی ص 13)
بلاشُبہ جس محدث نے دہلی جیسے مرکز علم و ادب میں ساٹھ سال درس دیا ہو اس کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہو گی۔ ہندوستان بھر سے ہی نہیں دیگر بلاد ِاسلامیہ سے بھی طلبہ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر زانوئے تلمذ طے کرتے اور حسبِ استعداد کسبِ فیض کر کےاپنے مقام مقدر پر جا کر تعلیم و تعلم، تصنیف و تالیف، تبلیغ واشاعت ِدین میں مشغول ہو جاتے ان کی خدمات کا اعتراف عالمِ اسلام کے علماء نے کیا
( خدمات اہلِ حدیث   نمبر ص 179 )
علم حدیث کی تدریس کے سلسلے میں میاں صاحب کی شہرت مختلف اقطارِ عالم میں پھیلی ہوئی تھی حجاز، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، یمن، نجد، شام ، حبش، افریقہ، تیونس، الجزائر، کابل، غزنی، قندھار،سمر قند، بخارا، داغستان، ایشیائے کوچک، ایران، خراسان، ہرات، چین، سری لنکا وغیرہ ملکوں اور علاقوں میں حضرت میاں صاحب کے شاگرد موجود تھے۔
( دبستان حدیث از اسحاق بھٹی ص۔ 49 )

:محدثِ دہلوی کا یزید کے بارے میں فتویٰ

یزید کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں فرماتے ہیں ، جاننا چاہیے کہ توبہ کا احتمال ہی احتمال ہے اُس بے سعادت نے اِس امت میں وہ کچھ کیا ہے کہ کسی نے نہیں کیا۔ شہادت ِامام حسین ﷛و اہانتِ اہلِ بیت کے بعد مدینہ منورہ کی تخریب و اہالیان ِمدینہ کی شہادت و قتل کے واسطے لشکر بھیجا۔ تین روز تک مسجد نبوی بے اذان و بے نماز رہی   اِنھیں مشاغل میں تھا کہ اُس کی موت آ گئی اور اِس جہاں کو پاک کیا۔ اُس کےبیٹے معاویہ نے برسرِ منبر اُس کی بُرائیاں بیان کیں۔  ﴿واللہ اعلم بما فی الضمائر ﴾ اور بعض سلف و اَعلام ِامت اُس شقی پر لعن تجویز کرتے ہیں۔ چنانچہ علامہ تفتازانی ﷫نےکمال ِجوش و خروش کے ساتھ اُس پر اور اُس کے اعوان پر لعنت کی ہے اور بعضوں نے اِس معاملے میں توقف کیا ہے۔ پس مسلکِ اسلم (سلامتی والا راستہ) یہی ہے کہ اُس شقی کو مغفرت و ترحم سے ہرگز یاد نہ کرنا چاہیے

(فتاویٰ نذیریہ جلد 1 ص 228،227 ) 

شیخ الکل کی عبارت سے ثابت شدہ امور

٭ یزید بے سعادت ہے۔

٭ حضرت حسین ﷛کا قاتل ہے۔

٭مدینہ منورہ کو اس بیدردی سے لُوٹا کہ مسجد ِنبوی شریف میں تین دن نہ اذان ہوئی اور نہ ہی نماز۔

٭ اپنی حکومت بچانے کے لیے مکہ مکرّمہ پر بھی چڑ ھ دوڑا۔ مخالفین کو کچلنے کے لیے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا اور بیت اللہ شریف کی حرُمت کو پامال کیا۔

٭اِس حالت میں مرا کہ اُس کا بھیجا ہوا لشکر اللہ کے گھر کا محاصرہ کر کے اُس پرپتھر برسا رہا تھا۔

٭وہ بد کردار ایسا تھا  کہ اس کے بیٹے نے برسرِ منبر اس کی برائیاں بیان کیں۔

٭بڑے بڑے محدثین و مفسرین ، اکابرین ِامت  اُس کے گھنا ؤنے کردار کی وجہ سے اس پر لعنت کے ڈونگرے برساتے ہیں۔

٭یزید زمین پر بصورت انسان غلاظت کا ایک  ڈھیر تھا۔ مرا تو اللہ تعالیٰ  کی زمین پاک ہوئی۔

٭اُس کے حق میں استغفار   نہیں کرنا چاہیے۔

٭اُسے ﷫بھی نہیں کہنا چاہیے۔

بیک وقت مصنف، مفسر، محدث، فقیہ، مفتی، مناظر، خطیب اور زعیم تھے۔
(تحریک اہل حدیث از قاضی  اسلم سیف ص 407 )
جامع الصفات علمی شخصیت تھے دین اسلام کے داعی بھی تھے۔ مفسرِ قرآن ، متکلم بھی تھے۔ ان کی اسلامی اور دینی خدمات کا دائرہ بڑا وسیع تھا۔
( علمائے اہل حدیث کی مثالی خدمات ص 30 رمضان یوسف سلفی)
اُن کا وجود یقینا﴿ایۃ من ایات اللہ﴾کا مصداق تھا۔اُن کی تقاریرو مناظروں سے مسلک اہلِ حدیث کو بڑا فروغ حاصل ہوا،  اُسے بڑی تقویت ملی۔

  (ہفت روزہ اہل حدیث نمبر ص 262 )

مختصر تعارف کے بعد شیخ الاسلام کا یزید کے بارے میں موقف ملاحظہ فرمائیں

بلاشبہ امام ِحُسین ﷛کا قصدا علائے کلمۃاللہ ہی تھا۔ اِسی بنا پر اُس بیعت سے انکار کیا تھا  جو ایک فاسق مجاھر کے ہاتھ بمع سُنتِ کسریٰ و قیصر ہوئی تھی ۔

(فتاوی ثنائیہ جلد 2 ص 132 )

حاصل کلام

٭ حضرت حسین ﷛حق کی خاطر میدان میں آئے تھے

٭یزید فاسق ِمُجاہر تھا۔

٭یزید کا فسق و فجور کوئی ڈھکا چھپا نہیں تھا بلکہ ہر فردو بشر پر عیاں تھا۔

٭    یزید کی بیعت جس انداز سے لی گئی وہ سرا سر غیر اسلامی غیر شرعی تھا۔

حضرت حسین ﷛کے نام کے ساتھ لفظ ِ “امام “لکھا جا سکتا ہے اگر یہ درست نہ ہوتا تو شیخ الاسلام خود یہ لفظ  استعمال نہ کرتے۔ ناصبی حضرات غور فرمائیں کہ شیخ ثناء اللہ امرتسری ﷫نے لفظ امام استعمال فرمایا ہے۔ وہ شخص جس کی زندگی کے شب وروز مختلف   ادیان و فرق کے مطالعہ میں گزرے جو میدانِ مناظرہ کے عظیم شہسوار تھے اہل سنت و اہل ِ تشیع کی کتب، اُن کی اصطلاحات سے بھی واقف تھے  انھیں اِس لفظ میں شیعیت نظر کیوں نہ آئی ؟ اگر یہ لفظ  اہل تشیع کی  اصطلاحات میں سے  ہوتا تو خود کبھی  استعمال نہ فرماتے۔