“حامیانِ یزید کی طرف سے کئی شبہات اٹھائے جاتے ہیں۔ جن کا مفصل تذکرہ اپنی دوسری کتاب “وکلائے یزید اور ان کے دلائل کا علمی محاسبہ میں ہی کریں گے۔ یہاں صرف ان شبہات کے بارے میں بات ہو گی جو اکثر پیش کیے جاتے ہیں۔
شبہ:حدیث قسطنطنیہ سے یزید مغفور (بخشا ہوا) ثابت ہو تا ہے۔ جسے حدیث ِ رسول ﷺمغفور قرار دے وہ آدمی برُے کردار کا حامل نہیں ہو سکتا۔
ازالہ :یہاں جو غلط فہمی پیدا ہوئی ہے وہ اس حدیث مبارکہ کے اصل مفہوم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ محدثینِ کرام اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔
علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں۔

اگر آپ اس لشکر کے بارے میں کہیں کہ یہ لشکر مغفور ہے۔ میں کہوں گا کہ اس کے عموم میں داخل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسے (یزید) کو کسی دلیلِ خاص سے خارج نہ کیا جا سکے۔ اس بارے میں اہلِ علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ آپ ﷺ کا جو یہ فرمان ہے۔ مغفور لھم یہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہےکہ اُس لشکر کے شرکاء اہل مغفرت میں سے ہوں۔ مثلا اگر اس لشکر کے شرکاء میں سے کوئی شخص مرتد ہو جائے تو وہ اس حدیث کی بشارتِ عام میں داخل نہیں رہے گا۔ لہذٰا مغفور وہی ہو گا جس میں مغفرت کی شرط پائی جائے۔
(عمدۃ القاری جلد 21 ص 422 )
امام زرقانی فرماتے ہیں

مغفور ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس میں مغفرت کی شرط پائی جائے یعنی وہ مغفرت کا اہل ہو۔
(شرح زرقانی جلد 3 ص 57 )
علامہ عبدالروف مناوی فرماتے ہیں۔

مغفورلھم سے یہ لازم نہیں آتا کہ یزید بن معاویہ بخش دیا گیا ہے کیونکہ بخشش کے لیے ضروری ہے انسان مغفرت کا اہل ہو۔ و یزید لیس کذالک جب کہ یزید بخشش کا اہل نہیں ہے۔
(فیض القدیر جلد 3 ص 109 )
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں۔

صحیح بات یہی ہے کہ اس حدیث سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے وہ گناہ بخشے جائیں گے جو اس جہاد سے پہلے ہو ئے ہوں کیونکہ جہاد ان اعمال میں سے ہے جو گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں اور گناہوں کا کفارہ بن جانے والے اعمال کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ان سے صرف سابقہ گناہ ہی معاف ہوا کرتے ہیں نہ کہ بعد والے۔ ہاں ! اگر اس روایت میں یہ الفاظ ہوتے ۔ ﴿مغفور لہ الی یوم القیامۃ﴾ : تو پھر یہ روایت یزید کی نجات پر دلیل ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں یعنی اس روایت میں الی یوم القیامۃ کے الفاظ نہیں ہیں جب یہ الفاظ نہیں آئے تو یزید نجات یافتہ بھی نہیں ہے۔
( شرح تراجم ابوابِ بخاری ص 32)
نوٹ: یہ ساری بحث اُس وقت ہے جب یزید کو پہلے لشکر میں شریک تسلیم کیا جائے جبکہ حقیقتا ایسا نہیں ہے یزید پہلے لشکر میں شامل تھا ہی نہیں۔
:قارئین کرام
اگر یہی موقف اپنایا جائے کہ حدیثِ قسطنطنیہ سے یزید بخشا ہوا ثابت ہوتا ہے تو اِس صورت میں حدیث قسطنطنیہ اور دیگر کئی روایات کے درمیان تضاد لازم آئے گا مثلا وہ روایات جن میں اہل ِمدینہ کو خوف زدہ کرنے والے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اس کے نفلی و فرضی اعمال کے برباد ہو جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اُن روایات کے تحت یزید لعنتی ثابت ہوتا ہے اس کے تمام اعمال نفلی ہوں یا فرضی برباد ہوتے نظر آتے ہیں۔ غور فرمائیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ نبی ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ سے ایک شخص لعنتی قرار پاتا ہو اُس کے تمام اعمال کے برباد ہونے کا اعلان کیا گیا ہو۔ پھر وہی شخص کسی اور حدیث سے جنتی اور بخشا ہوا ثابت ہوتا ہو؟
کسی نیک عمل کی بنیاد پر بخشا ہوا قرار دینا اور چیز ہے جبکہ نام لیکر جنتی قرار دینا اور بات ہے۔ کیونکہ کسی شخص کا نا م لیکر اسے جنتی قرار دینے میں اللہ ، رسول کی طرف سے اس بات کی ضمانت ہوتی ہے۔ کہ اس شخص کا خاتمہ بالخیر ہو گا۔اس سے کوئی ایسا عمل سرزرد نہیں ہو گا جو اس کی ساری نیکیوں کو برباد کر ڈالے۔
جبکہ کسی نیک عمل کی بنیا د پر مغفور یا جنتی قرار دینے میں خاتمہ بالخیر کی ضمانت نہیں ہوتی ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کوئی شخص کسی عملِ صالح کی وجہ سے مغفور ہو جائے پھر کوئی ایسا عمل کر بیٹھے جس کی وجہ سے وہ جہنم کا مستحق ہو جائے۔ کیونکہ اگر انسان کسی نیک عمل کی وجہ سے جنتی بن سکتا ہے تو کسی گناہ کی وجہ سے جہنمی بھی بن سکتا ہے۔
شریعت اسلامیہ نے اہل اسلام سے جہاں یہ تقاضا کیا ہے کہ ہر مسلمان نیک اعمال کرے وہاں جا بجا خبردار بھی کیا ہے۔ کہ کہیں ایسے اعمال نہ کر بیٹھنا جن کے ارتکاب کی وجہ سے ساری زندگی کی نیکیاں برباد ہو جائیں۔ مثلا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، نبی ﷺ کی بارگاہ کے آداب کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنا، اہلِ مدینہ کو خوف و حراس میں مبتلا کرنا۔ ان برے اعمال سے ہر صورت میں بچتے رہنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان زندگی بھر کے اعمال ضائع کر بیٹھے۔ بفرضِ محال یزید نے اگر جہاد کیا ہے۔ تو اس نے اہل مدینہ کو برباد بھی کیا ہے۔ اہل مدینہ کو خوف زدہ کرنے والے بدنصیب کے تمام اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔ سوچیں! یزید کے اعمال کا کیا بنا؟
اگر حدیثِ قسطنطنیہ سے دلیل لیتے ہوئے یزید کو جنتی کہا جا سکتا ہے تو ﴿من اخاف اہل المدینہ ظلما﴾ اس روایت سے دلیل لیتے ہوئے یزید کولعنتی کیوں نہیں قرار دیا جا سکتا؟