قاری عبدالحفیظ صاحب رحمہ اللہ

الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین امابعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم،بسم اللہ الرحمن الرحیم انما یریداللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت و یطھرکم تطھیرا بیت و یطھرکم تطھیرا”

سیدنا امامِ حسین علیہ السلام سے محبت رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔ ایمان اور سیدنا امامِ حسین علیہ السلام  کا بغض دو ایسے متضاد اجزاء ہیں۔جو ایک مسلمان کے دل میں کبھی بھی یکجا نہیں ہو سکتے۔ انسان کے منافق ہونے کی واضح دلیل ہے، کہ انسان اس مقدس گھرانے سے بغض رکھے جس پر درودوسلام بھیجنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہو۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو صحابہ کرام علیھم الرضوان و اہلِ  بیتِ رسول ﷺکو دل میں بسائے ہوئے ہیں۔ بدنصیبی اور بد بختی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اِن مقدس شخصیات کے بارے میں اپنی گندی و غلیظ زبانیں دراز کیے ہوئے ہیں۔

اس پرفتن دور میں دفاعِ اہلِ بیت کا فریضہ سر انجام دینا نہایت ہی کٹھن کام ہے۔ خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں ناصبیت کافی زور پکڑ چکی ہو۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے شیخ الحدیث والتفسیر مصطفیٰ المصحفی صاحب کو جنہوں نے دفاع اہلِ بیت کے سلسلہ میں ایک تحقیقی و فکری تحریک شروع کر رکھی ہے۔

 زیرِ نظر کتاب بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سیدنا امامِ حسین علیہ السلام کی ذات اقدس پر ناصبی اپنے غلیظ قلم کے ساتھ جو گھٹیا، بیہودہ، گندے اعتراضات کرتے رہتے ہیں ان تمام اعتراضات کا روایۃ و درایۃ بالخصوص اسلاف کے منہج کی روشنی میں رد کر دیا گیا ہے۔

 اس سے قبل مصنف کی کتاب ایام یزید ناصبیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی ہے۔ جس نے سالہا سال سے یزید پلید کی قصیدہ خوانی کرنے والی گندی زبانیں گنگ کر دی ہیں۔ ایامِ یزید نے ” یزید”  کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا تھا۔

اور زیرِ نظر کتاب دفاع امام حسین سیدنا امامِ حسین علیہ السلام کے حسنِ کردار ، جرات گفتار ، آپ کے موقف کی صداقت و حقانیت ہر خاص و عام پر روزِ روشن کی طرح واضح کر دے گی

ان شاء اللہ  تعالیٰ۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ مجھ سمیت ایسے تما م احباب کو جو سیدنا امام حسین علیہ السلام کے دفاع میں کام کر رہے ہیں اللہ اپنے حفظ و ایمان میں رکھے اور سیدنا امام حسین علیہ السلام کے قدموں میں جگہ نصیب فرمائے۔

قاری عبدالحفیظ فیصل آبادی