پہلی حدیث

حضرت ابو ہریرہ﷛فرماتے ہیں ۔

“سمعت الصادق المصدوق يقول: «هلكة أمتي على يدي غلمة من قريش»

(صحیح البخاری حديث نمبر 7058)

 میں نے صادق ،مصدوق یعنی نبی سے سنا ۔ آپ فرما رہے تھے!  میری امت کی ہلاکت قریش کے نا پختہ کار ، اور کم فہم افراد کے ہاتھوں ہو گی،

درج بالا حدیث نبوی  کے بارے میں محدثین کرام کے فرمودات ملاحظہ فرمائیں۔

علامہ بدر الدين العينى ﷫فرماتے ہیں۔                        

وأولهم يزيد عليه ما يستحق وكان غالبا ينزع الشيوخ من إمارة البلدان الكبار ويوليھا الْأصاغر من أقاربه

(عمدة القاری جز 25 صفحہ113)

ان میں پہلا یزید          عليه ما يستحق             ہے ۔ وہ بڑے اہم شہروں کی امارت سے بڑے جلیل القدر ،تجربہ کار افراد کو ہٹا دیتا اور ان کی جگہ اپنےخاندان کے کم عمر لڑکوں کو مقرر کر دیتا۔

امام ابنِ حجر عسقلانی ﷫لکھتے ہیں۔

ان اولھم یزید کما دل  علیہ قول  ابی ھریرۃ  راس الستین  وامارۃ الصبیان فان یزید کان غالبا ینتزع الشیوخ من امارۃ البلدان الکبار و یولیھا الاصاغر من اقاربہ

( فتح الباری  ج 13 ص 10)

ان میں سب سے پہلا یزید ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ ﷛ کا یہ قول“راس الستین  وامارۃ الصبیان”اس بات کی دلیل ہے۔ کیونکہ یزید اکثر بڑے بڑے اہم شہروں کی امارت سے تجربہ کار افراد کو معزول کر دیتا اور ان کی جگہ اپنے خاندان کے کم عمر لڑکوں کو مقرر کر دیتا۔

علامہ عبد الرؤوف مناوی﷫فرماتے ہیں۔

منھم يزيد بن معاوية واضرابه من احداث ملوك بني أمية فقد كان منھم ما كان من قتل أهل البيت وأكابر المهاجرين

(التيسیر بشرح الجامع الصغير جلد2 صفحہ 480 )

 یزید بن معاویہ اور اس جیسے بنو امیہ کے دیگر بادشاہ مراد ہیں۔ اُنہی  کے ہاتھوں اہل بیت اور اکابر مہاجرین  کا قتل ہوا۔

قارئین کرام

یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ﷛اس سیاہ دور سے بہت خائف تھے جس دور کی ہولناکیوں کی پیش گوئی آپ نے فرمائی تھی۔ اُس دورِ بربریت سے بچنے کے لیے اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔

اعوذ باللہ من راس الستین و إمارة الصبيان

میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ساٹھ ہجری کے آخری حصہ سے اور نو عمر لڑکوں کی حکومت سے،بازاروں میں چلتے پھرتے اکثر یہ دعا  مانگا کرتے۔

“اللھم لاتدرکنی سنۃ ستین ولا امارۃ الصبیان”

(فتح الباری جلد ۱۳ ص۱۰)

اے اللہ  مجھے ساٹھ( ہجری)  نہ پائے اور نہ ہی نو عمر لڑکوں کی حکومت دیکھوں۔

ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں

يشير إلى خلافة يزيد بن معاوية لأنھا كانت سنة ستين من الهجرة واستجاب الله دعاء أبي هريرة فمات قبلها بسنة

(فتح الباری ابن حجر ج1ص216)

حضرت ابو ہریرہ﷛“راس الستین”کے الفاظ سے یزید بن معاویہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرتے تھے  کیونکہ وہ ساٹھ ہجری میں واقع ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ ﷛کی دعا قبول فرمائی اور آپ ﷛ ایک سا ل پہلے وفات پا گئے۔

شیخ حمزة محمد قاسم فرماتے ہیں

“يشير إلى خلافة يزيد، وقد استجيب دعاؤه فمات سنة 59 من الهجرة”.

حضرت ابو ہریرہ کا اشارہ خلافت ِیزید کی طرف ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی ایک سال پہلے ہی  59 ہجری میں وفات پا گئے۔

(منار القاری شرح  صحيح البخاری:  جلد1صفحہ214  )

علی  بن سلطان الملا الهروی القاری﷫فرماتے ہیں :

يشير إلى خلافة يزيد بن معاوية لأنھا كانت سنة ستين من الهجرة، واستجاب الله دعاء أبي هريرة فمات قبلها بسنة

(مرقاة المفاتيح : جلد1صفحہ335)

حضرت ابو ہریرہ کا اشارہ خلافتِ یزید کی طرف ہوتا تھا کیونکہ ساٹھ ہجری میں اسکی حکومت  قائم ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہکی دعا قبول فرمائی ، حضرت ابو ہریرہ ایک سال پہلے ہی وفات پا گئے۔                         

علامہ عبيد الله بن محمد الرحمانیفرماتے ہیں

یشیر الی خلافۃ یزید بن معاویۃ ، لانھا کانت سنۃ ستین من الھجرۃ، واستجاب اللہ دعاء ابی ھریرۃ فمات قبلھا بسنۃ 

(مرعاۃ المفاتیح جلد 1 صفحہ 357)

 حضر ت ابو ہریرہ﷛کا اشارہ  اقتدارِ یزید کی طرف ہوتا تھا کیونکہ اس کی حکومت ساٹھ ہجری میں واقع ہوئی تھی۔ اللہ نے دعا قبول فرمائی جس کے نتیجے میں حضرت ابو ہریرہ﷛ایک سال پہلے ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔           

امام السمهودیفرماتے ہیں

” يشير إلى ولاية يزيد وكانت سنة ستين”

(خلاصۃ الوفا : جلد اصفحہ22)

(درج بالا حدیث میں)   یزید کی حکومت کی طرف اشارہ ہے وہ ساٹھ ہجری میں قائم ہوئی تھی۔

علامہ عبدالکریم الحضیر﷫ فرماتے ہیں۔

توفي معاوية وتولى بعده ابنه يزيد فأجاب الله دعوة أبي هريرة فقبضه قبل ذلك بسنة توفي سنة 59 أو 58 على خلاف في ذلك . المقصود أن الله أجاب دعاءه فقبضه قبل أن يعامل ويعاشر مثل هؤلاء

(شرح كتاب الفتن من صحيح البخاری  جلد 1 صفحہ 22 )

   معاویہ کی وفات کے بعد اُن کا بیٹا یزید برسرِ اقتدار آیا اللہ تعالیٰ نےابو ہریرہ﷛کی دعا قبول فرمائی اللہ تعالیٰ نے یزید کی حکومت آنے سےایک سال پہلے ہی آپ ﷛کو اپنے پاس بلا لیا۔

علامہ وحید الزماں فرماتے ہیں

“ھلاک امتی علی یدی اغیلمۃ”

چھوکروں کی حکومت کی خرابی اسلام میں یزید پلید کے زمانہ سے شروع ہوئی، وہ کمبخت ایک کم سن چھوکرا  تھا۔ بوڑھے بوڑھے صحابہ اس وقت موجود تھے۔ اس کو کسی قاعدے سے خلافت کا حق نہ تھا ۔ لیکن زبردستی حاکم بن بیٹھا تھا ۔ آخر مسلمانوں  میں وہ تباہی آئی کہ پناہ بخدا مسلمانوں کے سردار امام حسین ﷤شہید ہوئے جن سے اسلام کی زینت تھی،  مدینہ منورہ کی بے حرمتی ہوئی،بہت سے صحابہ اور تابعین کو یزید کے لشکر نے مدینہ میں آ کر شہید کیا۔

“لعنۃ اللہ علی یزید، و علی اتباعہ”

(تیسیر الباری جلد نہم ، کتاب الفتن صفحہ 131)

امام الحسن الکتانی کا موقف

امام الحسن الکتانی نے امام ابنِ حجر کا درج بالا قول ذکر کیا ہے اور اس کی تائید فرمائی ہے۔ 

(الرد علی الطاعن فی ابی ہریرہ ص 18 )

مفسرِ قرآن  علامہ محمود بغدادی فرماتے ہیں

یشیر الی خلافۃ یزید الطرید لعنہ اللہ تعالیٰ علی رغم انف اولیائہ  لانھا کانت سنۃ ستین من الھجرۃ و استجاب اللہ تعالیٰ دعا ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ فمات قبلھا بسنۃ

(روح المعانی  ج 3 ص 258 )

حضرت ابو ہریرہ ﷛کا اشارہ سر کش یزید کی خلافت کی طرف ہوتا تھا۔ کیونکہ وہ ساٹھ ہجری میں قائم ہوئی تھی۔  اللہ تعالیٰ یزید پر لعنت کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ ﷛کی دعا قبول فرمائی جس کے نتیجے میں ایک سال پہلے ہی فوت ہو گئے۔

مفسرِ قرآن قاضی ثناء اللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔

“مشیرا الی امارۃ یزید بن معاویۃ”

(تفسیر المظہری ج 1 ص 149 )

حضرت ابو ہریرہ ﷛کا اشار ہ یزید بن معاویہ کی حکومت کی طرف  ہوتا تھا۔

 

 دوسری حدیث ﴿

“ولايريد أحد أهل المدينة بسوء إلا أذابه الله فى النار ذوب الرصاص أو ذوب الملح فى الماء”

(مصنف ابن أبى شيبہ حدیث نمبر  36220 )

(مسند أحمد حدیث نمبر 1606 )

(مسند عبد بن حميد  حدیث نمبر153 )

 (صحیح مسلم  حدیث نمبر 3385 )

( السنن الكبرى حدیث نمبر 4265)

(المسندالمستخرج از اصبھانی۔ حدیث نمبر 3167 )

 (الجمع بین الصحیحین  حدیث نمبر 197 )

(کنزالعمال حدیث نمبر 34862 ،(سند ہ صحیح)

جو شخص بھی اہل ِمدینہ کے بارے میں بُرا  ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اُس کو آگ میں اس طرح پگھلائے گا جس طرح تانبا پگھلتا ہے یا جس طرح پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔

قارئین کرام

 مذکورہ بالا روایات  میں اُس بد نصیب کی مذمت بیان کی گئی ہے جو اہل ِمدینہ کو پریشان کرے ان پر حملہ آور ہو ۔ اکابرینِ امت کی تحریرات اِس پر شاہد ہیں کہ یہ سب کچھ یزید کے دورِ حکومت میں ہوا۔ ثابت ہوا  کہ یہ سب روایات یزید کی مذمت میں ہیں۔ محدثین کرام اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

قاضی عیاض اندلسی فرماتے ہیں۔

فلايمهله الله، ولا يُمكن سلطانه، ويذهبه عن قرب، كما انقضى من شأن من حاربھا أيام بنى أمية مثل مسلم بن عقبة، وهلاكه منصرفه عنها، ثم هلاك يزيد بن معاوية مرسلہ على إثر ذلك

(از قاضی عياض  جلد4 صفحہ 484)

یعنی اللہ تعالیٰ اسے مہلت نہیں دیں گے اور نہ ہی اس کی حکومت باقی چھوڑیں گے۔ اس کی سلطنت جلد ہی مٹ جائے گی۔ جیسا کہ بنوامیہ کے دورِحکومت میں ہر اس آدمی کے ساتھ ہوا جس نے مدینہ والوں کے ساتھ بُرا سلوک کیا۔ مثلا مسلم بن عقبہ جلد ہی ہلاکت کے گھاٹ اُتر گیا پھر اس کے بعد یزید بن معاویہ بھی ہلاک ہو گیا۔

امام قرطبی فرماتے ہیں

كما قدفعل ذلك بمن غزاها،وقاتل أهلها فيما تقدَّم؟ كمسلم بن عقبة ؛ إذ أهلكه الله

منصرفه عنھا ، وهلاك يزيد بن معاوية إثر إغزائه أهل المدينة إلى غيرذ

(المفهم  جلد 11 صفحہ 30)

جیسا کہ مسلم بن عقبہ واپس پلٹتے ہی ہلاک ہو گیا۔ اسی طرح یزید بن معاویہ ،اہل مدینہ سے جنگ کرنے کے بعد ہلاک ہو گیا۔

علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں

مثل مسلم بن عقبة فإنه هلك في منصرفه عنھا ثم هلك يزيد بن معاوية مرسله على

غثر ذلك وغيرهما ممن صنع صنيعهما

(الديباج على مسلم  جلد3 صفحہ 407)

(اللہ تعالیٰ اسے اس طرح ہلاک کر دے گا ) جس طرح مسلم بن عقبہ کو ہلاک کیا وہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کے بعد واپس پلٹتے ہوئے راستے میں ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد اسے بھیجنے والا یزید بن معاویہ بھی ہلاک ہو گیا۔

.

 ﴾تیسری حدیث﴿ 

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں میں نے نبی سے سنا آپ فرما رہے تھے۔

“تکون خلف بعد الستین اضاعوا الصلوت واتبعوا الشھوات فسوف یلقون غیا”

60 (ہجری)  کے بعد ایسے نا خلف آئیں گے جو کہ نمازیں ضائع کریں گے۔ ایسے لوگ جلد ہی غی نامی وادی میں پہنچیں گے۔

( صحیح ابن حبان، ج 3 ص 32)

 ( مستدرک حاکم ص 590) 

امام ہیثمی فرماتے ہیں۔”رجالہ ثقاۃ”کہ اس کے راوی ثقہ ہیں۔

(مجمع الزوئد جلد 6 ص 231)

  علامہ البانی فرماتے ہیں یہ روایت صحیح ہے۔

(التعلیقات الحسام  جلد 1 ص 165)

یزید نے اقتدارکب سنبھالا؟

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں۔

“فبویع سنۃ ستین”

اس (یزید) کی ساٹھ (ہجری)  میں بیعت کی گئی۔

(تھذیب ا لتھذیب ج 11 ص 360)

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں۔

“بویع لہ بالخلافۃ  بعد ابیہ فی رجب سنۃ ستین”

( البدایہ والنھایہ ج 8 ص 146)

ساٹھ( ہجری)  رجب کے مہینے میں یزید کی بیعت کی گئی۔

قارئین کرام اس کے ساتھ ابنِ کثیر کے یہ الفاظ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

کان فیہ ایضا اقبال علی الشھوات و ترک بعض الصلوات فی بعض الاوقات و

اماتتھا فی غالب الاوقات

(البدایہ والنھایہ جلد 8 ص 253)

یزید میں یہ برائیاں بھی تھیں شہوات کی طرف لپکنا ، بعض نمازیں ترک کرنا، اکثر اوقات وقت گزار کر نماز پڑھنا