الانتساب
مدینۃالرسول ﷺکے اُن مردانِ حرُ کے نام جنہوں نےشہادتِ امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو سمجھ لیا اور امام حسین علیہ السلام کے نشاناتِ قدم کو اپنی منزل سمجھا۔ جنہیں ڈرایا گیا، دھمکایا گیا، لیکن ضمیر کا سودا کرنے سے یکسر انکار ہی کرتے رہے اور دامنِ شجاعت بزدلی سے یکسر بے داغ ہی رہا۔ جن کے مقدس اجسام حرہ کے سنگستان میں تڑپے ، پھر خون کے ایک سیلاب میں ڈوب گئے۔ جن کے خونِ شہادت نے یزیدی سلطنت کے آثار تک مٹا ڈالے اور جنہیں تاریخ نے شہدا ئے حرہ کے نام سے یاد رکھا۔
عرضِ مولف
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رحمۃ للعلمین
“واعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لاتفرقوا”
دین اسلام میں فرقہ بندی، فرقہ پرستی حرام ہے۔ جو شخص امتِ محمدیہ کو متحد رکھنے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے اللہ رب العالمین کے ہاں اعلیٰ مقام پاتا ہے۔ اور جو کوئی امت میں فرقہ پرستی کو فروغ دیتا ہے ۔ وہ خالقِ کائنات کا نافرمان قرار پاتا ہے۔ ہر وہ راستہ جو فرقہ بندی کی طرف جاتا ہو اسے پہچاننا اور اس سے اجتناب کرنا ازحد ضروری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فرقہ بندی کی طرف لے جانے والے راستے کون سے ہیں؟
تاریخ ِ اسلام کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ کہ فرقہ بندی کے پیچھے ہمیشہ کچھ عوامل ضرور کارفرما رہے ہیں جن میں سے چند ایک کی نشاندہی کی جاتی ہے
قرآن و حدیث کے واضح احکامات کو چھوڑ کر کسی ایک شخصیت کی پیروی کو اپنے اوپر لازم ٹھہرا لینا۔
قرآن ِ پاک کی آیات و احادیثِ نبویہ کا وہ مفہوم لینا جو صحابہ و تابعین کے زمانہ میں کسی نے نہ لیا ہو۔ نیز وہ مفہوم شارحینِ حدیث، ائمہ مجتہدین کے بیان کردہ مفہوم سے یکسر متضاد ہو اور شریعت کے مزاج سے مواقفت نہ رکھتا ہو۔
جب انسان کسی مسئلہ کی تحقیق کرنے لگے تو خود کو عقلِ کُل تصور کرتے ہوئے اپنی ایسی ذاتی رائے کو حرفِ آخر قرار دے جس کی بنیاد مصادرِ شرعیہ پر نہ ہو اور امتِ محمدیہ کے ہزاروں محدثین و مفسرین کی تحقیق کو غلط بتانے لگے تو فرقہ بندی کی راہیں ہموار ہونے لگتی ہیں اور فرقہ بندی معاشرے کا ایک ناسور ہوتا ہے۔
جس معاشرے میں فرقہ پرستی ،فرقہ بندی جڑیں پکڑ لے وہ معاشرہ تباہی کے کنارے پر جا کھڑا ہوتا ہے۔اخلاقی اقدار مٹ جاتی ہیں، تشدد و عدم برداشت کو فروغ ملتا ہے۔ آج وطنِ عزیز لسانیت ، قومیت اور فرقہ پرستی کی آگ سے سُلگ رہا ہے۔
فرقہ پرستی کی جڑیں اس قدر تقویت پکڑ چُکی ہیں کہ اللہ کے نام پر تعمیر کردہ مساجد کی پیشانی پر کسی نہ کسی فرقے کا نام لکھنا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ حتٰی کے ایک مسلمان جب نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد کا رُخ کرتا ہے تو داخل ہونے سے پہلے بے ساختہ اس کی نظر مسجد کی پیشانی پر لکھی ہوئی تحریر کی طرف ہی اُٹھتی ہے کہ یہ مسجد میرے فرقے کی ہے یا نہیں؟
اگر اس کے اختیار کردہ فرقے کا نام لکھا نظر آ جائے تو طبیعت خوش ہو جاتی ہے۔ قدم بڑے شوق سے مسجد کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر کسی دوسرے فرقے کا نام نظر آ جائے تو پیشانی پر سلوٹیں پڑ جاتی ہیں۔ طبیعت میں گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ بالآخر وہ دماغ جو فرقہ پرستی کا خوگر ہو چکا ہو ، فورا فیصلہ صادر کر دیتا ہے کہ واپس لوٹ چلو یہاں نماز قبول نہیں ہو گی۔ لیکن اگر کوئی شخص خود پر جبر کر کے دوسرے فرقے کی مسجد میں چلا بھی جائے تو اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرتا ہے۔
فرقہ پرستی نے قلوب و اذہان کو اپنی گرفت میں بُری طرح جکڑ لیا ہے۔ عصرِ حاضر کے وہ مصنفین جو کسی مخصوص فرقے سے وابستہ ہوں جب قلم اٹھاتے ہیں اپنے مکتبہ فکر کے علماء کا تذکرہ کرتے ہیں تو انھیں وفورِعقیدت سے طرح طرح کے القابات سے نوازتے ہیں۔ کبھی مجددِ دین و ملت قرار دیتے ہیں۔ کبھی حکیم الامت کے سحر انگیز لقب سے یاد کرتے ہیں۔ کبھی امام العصر کا سابقہ لگاتے ہیں۔کبھی دامت برکاتھم العالیہ ، مدظلہ العالی کے دعائیہ کلمات لکھنا اسلام کی عظیم الشان خدمت سمجھتے ہیں۔ لیکن لکھتے لکھتے جب کسی دوسرے مکتبہ فکر کے علمی ،روحانی یا فکری پیشوا کا تذکرہ کرنا پڑے تو اس بے چارے کے نام کے ساتھ لکھنا بھی طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔
ہم برملا کہتے ہیں ۔ کہ ہم ایسی سوچ و فکر سے بے زار ہیں۔ ہم کہتے ہیں ، ہر مسلک کے علمائےکرام و مشائخِ عُظام کا نام ادب و احترام سے ہی لیا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ جب کسی کے پیشوا کا نام ادب و احترام سے لیں گے تو اس کے دل میں نہ صرف آپ کے پیشوا بلکہ خود آپ کے بارے میں محبت و احترام کے جذبات پیدا ہوجائیں گے۔ کسی شخصیت کی بات سے اگر اختلاف ہو تو اس کی مدلل تردید کا حق ہر اہلِ علم کو حاصل ہے۔لیکن محض مسلکی و فقہی اختلاف کی بنا پر کسی مسلمہ شخصیت کی تذلیل کا حق کسی کے پاس نہیں۔ شدت پسندی اور فرقہ واریت کے نتیجہ میں رونما ہونے والے سانحات و حوادثات کے بعد کیا ابھی تک یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی کہ دشنام طرازیوں کے ساتھ کسی کو گھائل تو کیا جا سکتا ہے لیکن قائل کسی کو نہیں۔
یاد رہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے روحانی و علمی پیشواؤں کے ہاں یزید کا فسق و فجور ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اہلِ سنت کے جملہ مکاتبِ فکر یزید کے فاسق و فاجر ہونے پر متفق ہیں۔ اختلاف اس کی تکفیر میں ہے۔ اگر کسی ایک آدھ نے اختلاف بھی کیا ہے تو اکابرینِ اسلام نے اس کے اختلاف کرنے کو کوئی حیثیت نہیں دی۔ لیکن اسلام دشمن طاقتوں کی ریشہ دوانیوں سے اس مسئلہ کو مختلف فیہ قرار دینے کی کوششیں جاری رہیں۔ بالآخر انہوں نے کچھ ایسے لوگ ڈھونڈ ہی لیے جنہوں نے اس مسئلے پر کتب و رسائل تصنیف کیے اور خارجی نظریات کی بھر پور ترجمانی کی اور ان کی پرُ فریب تحریرات سے یہ متفق علیہ مسئلہ بھی مختلف فیہ مسئلہ کا روپ دھارنے لگا۔
اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ نظریات و اعتقادات پر ہی گروہوں کی بنیاد پڑتی ہے۔ خارجی فرقہ جو سیدنا علی علیہ السلام و معاویہ کے دور میں معرضِ وجود میں آیا۔ جس کی غارت گری تاریخِ اسلام کا ایک تاریک و کربناک باب ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے نہروان کے معرکہ میں اس کی جڑیں کاٹ کر رکھ دی تھیں۔ اس معرکہ میں خوارج کے بڑے بڑے قائدین و پیشوا مارے گئے۔ باقی ماندہ خارجی میدان سے بھاگے اور دور دراز کے علاقوں میں جا بسے رفتہ رفتہ منظم ہونے لگے۔ پھر ایک جماعت کی شکل اختیار کر لی۔ اور امتِ مسلمہ کو ہمیشہ خانہ جنگی کی آگ میں جھلساتے رہے۔ حتیٰ کہ اسلامی ریاستیں ہمیشہ خوارج کی سرگرمیوں سے پریشان رہیں۔
عرصہ دراز سے ،یہودو ہنود نے وطن ِ عزیز کو ایک خطر ناک خانہ جنگی میں دھکیلنے کی پیش بندی کر رکھی ہے۔وہ اب بھی خوارج کی باقیات کو یکجا کرنے کے درپے ہیں۔ چنانچہ وہ خوارج کے نظریات و افکار کو وطنِ عزیز میں بدستور پھیلائے جا رہے ہیں اور اس بارے میں اپنے ہدف کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔
بعض علمائے کرام کی طرف سے اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا چکا ہے کہ “کہیں خارجی نظریات کے حامل افراد ایک منظم ، دہشت گرد گروہ کا روپ نہ دھار لیں”۔ ہمیں چاہیے کہ ان خارجی نظریات کی علمی و عقلی تردید اس انداز سے کریں کہ سادہ لوح عوام ان نظریات و افکار سے متاثر نہ ہونے پائیں۔
نوٹ:۔یزید کا دفاع کرتے ہوئے سیدنا امامِ حسین علیہ السلام جیسی عظیم ہستی پر کیچڑ اچھالنا عین فرقہ واریت ہے۔ جب کہ سیدنا امامِ حسین علیہ السلام کا دفاع کرتے ہوئے یزید کے فسق و فجور کو عیاں کرنا کوئی فرقہ پرستی نہیں کیونکہ اہلِ سنت کے تمام مکاتبِ فکر کے مسلّمہ ائمہ کرام کے ہاں یزید کا فاسق و فاجر ہونا متفق علیہ مسئلہ ہے۔ ہم نے اسی حقیقت کو آشکارا کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس ضمن میں اہلِ سنت کے تمام مکاتبِ فکر کے جید و معتبر علمائے کرام کی تحریرات پیش کر دی ہیں اور ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ کسی بھی مسلک کے مسلمہ پیشوا ا و رہنما کا تذکرہ اخلاقی اقدار کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کیا جائے ۔
ان شاء اللہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری یہ کتاب قارئین کرام کو ائمہ محدثین و اکابرینِ امت محمدیہ کے قریب کر دے گی۔ کیونکہ ہم نے ان پاک باز شخصیات کے علم و فضل پر طعن زنی نہیں کی اور اپنی ذاتی تحقیق اپنانے کی دعوت بھی نہیں دی۔
“اللھم ارنا الحق حقا و ارزقنا اتباعہ و ارنا الباطل باطلا و ارزقنا اجتنابہ”