کیا یزید سانحہ کربلا کا ذمہ دار ہے یا نہیں ؟  شہادتِ امام حسین علیہ السلام  میں اس کا ہاتھ ہے یا وہ بالکل معصوم ہے؟   حامیان ِ یزید جوکہ  یزید کے وکیلِ صفائی کا کردار ادا کرنے کے لیے بڑے  ہی بے چین رہتے ہیں جب بھی موقع ملتا ہے اسے بڑی چابکدستی سے بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ ذیل میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ علمائے اسلام یزید کو سانحہ کربلا کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں یا نہیں۔

شیخ الکل علامہ سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

اُس بے سعادت نے اِس امت میں وہ کچھ کیا ہے کہ کسی نے نہیں کیا۔ شہادت ِامام حسین رضی اللہ عنہ  و اہانتِ اہلِ بیت کے بعد مدینہ منورہ کی تخریب و اہالیان ِمدینہ کی شہادت و قتل کے واسطے لشکر بھیجا۔

 (فتاویٰ نذیریہ جلد 1 ص ،227 )

مجتہد العصر علامہ سید صدیق حسن  خاں بھوپالوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

و کارہائے کہ آں بے سعادت دریں امت کردہ از دست ہیچ کس ہرگز نیاید ۔ بعدقتلِ امام حسین رضی اللہ عنہ بتخریب مدینہ منورہ فرستاد  

(بغیۃ الرائد ص 98)

اُس بدنصیب نے ایسے بدترین کام کیے جو اس امت میں کسی نے نہیں کیے۔ امام حسین  رضی اللہ عنہ کو قتل کروانے کے بعد مدینہ منورہ کی بربادی کے لیے لشکر روانہ کیا۔

شارح کُتب ِاحادیث  علامہ وحید الزماںرحمہ اللہ   فرماتے ہیں۔

ناخلف یزید پلید نے تو غضب ڈھادیا امیر المومنین امام حسین علیہ السلام کو مع اکثر اہل بیت کےبڑے ظلم و ستم کے ساتھ شہید کرایا ۔

( تیسرالباری شرح بخاری جلد 5 ص 90 )

علامہ عبدالاول غزنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

اس نا خلف نے جناب امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد اہل  مدینہ پر لشکر کشی کی   

( مشکوۃ شریف ترجمہ مولانا عبدالاول غزنوی جلد 4 ص 78 )

نوٹ:۔

مولاناعبدالاول غزنوی    رحمہ اللہ  اکابرینِ اہلِ حدیث میں سے ہیں۔حافظ عبداللہ روپڑی، حافظ محمد گوندلوی اور سید داؤد غزنوی ﷭کے استاد   ہیں۔  یاد رہے ناصبیوں نے حسبِ عادت بددیانتی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اس عبارت کو ہذف کر دیا ہے۔ اس کا دوسرا ایڈیشن جو مکتبہ محمدیہ سے شائع کیا گیا ہے  اُس میں یہ عبارت  نکال دی ہے تاکہ  عوام الناس پر حقیقی  و اصلی حسینی اہل حدیثوں کا موقف و منہج واضح نہ ہونے پائے۔

مفسرِ قرآن قاضی ثناءالله  پانی پتی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں۔

“قتل ابن بنت رسول اللهومن معه من اهل بيت النبوة وأهان عترته وافتخر به”

(التفسير المظهری جلد 6 صفحہ 554)

یزید نے نواسئہ رسول    کو شہید کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل بیت میں سے جو افراد تھے انھیں بھی شہید کیا۔ آپ کی اولاد کی توہین کی اور اس پر فخر کا اظہار کیا۔

جامع المعقول والمنقول علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں

“و لما قتل الحسين و بنو أبيه بعث ابن زياد برؤوسھم إلى يزيد فسر بقتلهم أولا ثم ندم لما مقته المسلمون على ذلك”

   (تاريخ الخلفاء – السيوطی صفحہ182)

جب حضرت حسین اور ان کے اقرباء شہید ہو گئے تو عبیداللہ بن زیاد نے ان کے سر یزید کی طرف بھیج دیے۔ شروع میں یزید ان کے قتل ہوجانے پہ بڑا خوش ہوا۔ لیکن جب مسلمانوں نے اس سے اظہارِ نفرت کیا تو پچھتاوے کا اظہار کرنے لگا۔

مفسرِ قرآن   علامہ محمود بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

“والطامة الكبرى ما فعله بأهل البيت ورضاه بقتل الحسين على جده وعليه الصلاة والسلام واستبشاره بذلك وإهانته لأهل بيته مما تواتر معناه وإن كانت تفاصيله آحاد”

(روح المعانی: جلد19صفحہ 153)

سب سے بڑی مصیبت یزید کا وہ سلوک ہے جو اس نے اہل بیت کے ساتھ کیا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر خوش ہوا۔ یزید کا  ان حرکات پر خوش ہونا اور اہل بیت کی توہین کرنا یہ معنوی طور پر متواتر ہے اگرچہ اس واقعہ کی تفصیلات خبر احاد سے ثابت ہوتی ہے۔

حافظ ابن كثير رحمہ اللہ  فرماتے ہیں

“أنه قتل الحسين وأصحابه على يدى عبيد الله بن زياد”

( البدايہ والنهایہ جلد8صفحہ232)

یزید نے حضرت حسین  رضی اللہ عنہ  اور اُن کے رفقاء  کو عبیداللہ بن زیاد کے ہاتھوں قتل کروایا۔                                       

“وقد كان يزيد كتب إلى عبيد الله بن زياد أن يسير إلى الزبير فيحاصره بمكة فأبى عليه وقال والله لا أجمعهما للفاسق أبدا أقتل ابن بنت رسول الله وأغزو البيت الحرام”

 (البدایہ والنهایہ جلد 8صفحہ 219)

یزید نے عبیداللہ بن زیاد کو مدینہ کی طرف پیش قدمی کرنے   اور پھر  مکہ جا کر  عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما   کا  محاصرہ کرنے کا حکم دیا۔ اس نے انکار کر دیا اور کہا اللہ کی قسم (میں اپنے نامہ اعمال میں)اس فاسق کے لیے   دو جرم کبھی بھی  جمع نہیں کر سکتا۔  پہلے  نواسئہ رسول کا قتل کیا  اور اب  کعبہ  پر حملہ کروں۔

حافظ ابن حزم رحمہ اللہ  فرماتے ہیں

“وقتل الحسين وأهل بيته في أول دولتھا”

 (جمهرة أنساب العرب صفحہ49)

یزید نے اپنے دورِ حکومت کے آغاز میں حضرت حسین اور ان کے گھر والوں کو قتل کیا

امام اہلسنت جامع المعقول والمنقول علامہ سعدالدين تفتازانی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں

“الحق أن رضى يزيد بقتل الحسين واستبشاره بذالك مما تواتر معناه وإن كان تفاصيله آحادا”

(شرح عقائد النسفی صفحہ 117)

 حق بات یہی ہے کہ یزید کا  حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر خوش ہونا  معنوی طور پر متواترہے اگرچہ اس کی تفصیلات  اخبارِ  احاد سے ملتی ہیں۔

شاه ولی الله محدث دہلوی  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں

“ارتكبه من القبائح بعد هذہ الغزوة من قتل الحسين وتخريب المدينة”

(شرح تراجم بخارى ص23)

یزید نے اس غزوہ کے بعد بڑی قبیح حرکات کا ارتکاب کیا  ۔   مثلا  حضرت حسین کا قتل اور مدینہ منورہ کو برباد کروانا۔                                                 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

عجب است ازیں قائل کہ یزید را نگفت کہ امیر عبیداللہ بن زیاد بود و ہرچہ کرد بامرے وے و برضائے وے کرد

یہ بات کہنے والے پر تعجب ہے  کہ یزید نے عبیداللہ بن زیادکو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے  کا حکم نہیں دیا تھا۔حالانکہ ابنِ زیاد نے جو کچھ بھی کیا یزید کے حکم اور اس کی رضا سے کیا۔

(اشعتہ اللمعات   ج 4 ص343 )

مجتہد العصر علامہ صالح بن مہدی مقبلیرحمہ اللہ  فرماتے ہیں

“وقتل الحسین السبط و اھل بیتہ وھتکھم وفعل ما لو استمکن من مثل مافعلہ عدوھم من النصاری ربما کان ارفق منہ”

(العلم الشامخ ص 368 )

یزید نے نبی کے نواسے حضرت حسین کو شہید کیا۔ ان کی بے حرمتی کی اور ان کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ اگر دشمنانِ اسلام نصرانیوں کا بھی ان پر قابو چلتا تو ان کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک نہ کرتے ان کے ساتھ نرم رویہ اپناتے   ۔

علامہ قطب الدین خان رحمہ اللہ  لکھتے ہیں۔

یزید بن معاویہ اور عبیداللہ بن زیاد  – اللہ انہیں  ذلیل کرے-  ان سے قتلِ اہلِ بیت پیغمبر صادر ہوا۔           

(مظاہرِ حق جلد4 ص 320)

 

نوٹ:

ہم نے یہاں اہل سنت کی نمایا ں شخصیات  کے حوالہ جات درج کیے ہیں تاکہ عوام الناس پر واضح ہو کہ اہل سنت کے مقتدر و  معتبر علمائے کرام کے ہاں یزید سیدنا امام حسین علیہ السلام کا قاتل ہے۔  واضح رہے کہ ہم نے درج بالا حوالہ جات بطورِ حجت کے نقل نہیں کیے ۔ ان حوالہ جات کو ہم نے مؤقف کی تائید میں سپرد قلم کیا ہے۔  مزید تفصیل کے لیے ہماری کتاب دفاعِ  امامِ حسین علیہ السلام ملاحظہ فرمائیں  ۔